جاپان کی جانب سے گزشتہ دہائی کے دوران سائنسی پیدوار جمود کا شکار رہنے کے باوجود اوپری سطح پر حوالہ جات کے اثرات مستحکم رہے: ویب آف سائنس کی بصیرت

جاپان کی جانب سے گزشتہ دہائی کے دوران سائنسی پیدوار جمود کا شکار رہنے کے باوجود اوپری سطح پر حوالہ جات کے اثرات مستحکم رہے: ویب آف سائنس کی بصیرت

March 23, 2017 | General, Urdu | Share:

کمپیوٹر سائنس، سالماتی بائیولوجی اور امیونولوجی میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی تاہم عالمی معیار کی تحقیق اور محققین اب بھی منتخب شعبوں میں موجود ہیں

فلاڈیلفیا، 22 مارچ 2017 / پی آر نیوز وائر / — کلیئریویٹ اینالٹکس ویب آف سائنس ٹ م سے حاصل کردہ معلومات، جس میں گزشتہ دہائی کے دوران جاپان کی تحقیقی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے، کے تازہ تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ جاپان کو سائنسی پیداوار میں کمی اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ یہ نتائج نیچر انڈیکس میں شائع کیے گئے ہیں جو جاپان کی سست رفتار کارکردگی کی نتائج پر روشنی ڈال رہے ہیں اور بیان کر رہے ہیں کہ حکومت کے پالیسی ساز اور عطیہ کنندگان اس گرتے ہوئے رجحان کو بدلنے کی کوشش میں اب کیا کر رہے ہیں۔http://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_k61d2pa8/def_height/400/def_width/400/

https://mma.prnewswire.com/media/455613/clarivate_logo_for_press_release_Logo.jpg

سال 2015 میں جاپانی محققین نے ویب آف سائنس کے عالمی اثر رکھنے والے جریدے کی فہرست میں 2005 کے مقابلے میں 600 کم مقالہ شائع کیے۔ گو کہ یہ گراوٹ 1 فیصد سے بھی کم ہے تاہم اس سے عالمی مقالہ جات میں ملک کا حصہ 8.4 فیصد سے کم ہو کر 5.2 فیصد ہوگیا ہے۔ ویب آف سائنس جریدے میں چین اور جنوبی کوریا کی اشاعتی تعداد میں تیزی اور مضبوط سائنسی بنیادوں کے ساتھ اقوام کے مقابلے میں ترقی کی تیز شرح سے امریکا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کی عالمی حصہ داری میں گراوٹ کی توقع کی جاسکتی ہے چونکہ عالمی پیدوار کا فیصد صفر حاصل جمع کی بازی ہے۔

کلیئریویٹ اینالٹکس میں حوالہ جات کے سینئر تجزیہ کار ڈیوڈ پینڈلبری نے کہا ہے کہ جاپان ایک خصوصی کیس ہے کیوں کہ، حقیقی لفظوں میں، وہ دونوں جانب ترقی نہیں کر رہا۔ 2015 کے دوران جاپان نے 11 شعبوں میں 2005 کے مقابلے میں کم مضامین شائع کیے۔ سائنسی مواد اور انجینئرنگ، جو تاریخ کے اعتبار سے جاپان کے مضبوط شعبے ہیں، میں 10 فیصد سے بھی زائد گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ سب سے ہوشربا تنزلی بائیو کیمسٹری، سالماتی بائیولوجی اور کمپیوٹر سائنس اور جاپان کے روایتی مضبوط شعبے امیونولوجی میں دیکھی گئی۔ فلک شناسی وہ واحد شعبہ ہے جس میں جاپان نے اوسط سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔

پینڈلبری نے کہا کہ اس کے باوجود جاپان کے پاس اب بھی عالمی معیار کے متعدد سانسدان موجود ہیں اور قوم کئی طرح کے خصوصی، معروف ترین شعبوں میں پیش پیش رہی ہے۔ معلومات میں اترتے جائیں تو تحقیقی سرگرمیوں اور کارکردگی سے متعلق ہر مرتبہ مختلف کہانیاں سامنے آتی ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے پیاز کو چھیلا جائے۔

مثال کے طور پر ویب آف سائنس کے حصہ اور تشریحی سہولت انسائٹس ٹ م سے حاصل شدہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ گزشتہ دہائی کے دوران حوالہ جات میں 10 فیصد بہترین قرار پانے والے مقالہ جات میں جاپان کی پیدوار کا حصہ مستحکم رہا ہے۔ حوالہ جات کے اثرات کے اعتبار سے 1 فیصد بہترین مقالہ جات قرار پانے والوں میں درحقیقت لگ بھگ 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حتی کہ ایک شعبے مثلاً امیونولوجی، جس کی گزشتہ 10 سالوں کے دوران پیداوار ایک تہائی ہو چکی ہے، میں اس کی پیداواری حصے کے طور پر بہترین 1 فیصد میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ توقعات سے 19 سے 26 فیصد زیادہ ہے۔

پینڈلبری نے جاپان کی سائنسی اشرافیہ کی خصوصی مثالیں بھی پیش کیں: کیوٹو یونیورسٹی کے سوسومو کیتاگاوا، جنہوں نے لچکدار دھاتی-عضو  فریم ورکس بنائے؛ ٹوکیو یونیورسٹی کے یوشینوری ٹکورا، جو ملٹی فیروئکس اور الیکٹرون کے باہمی نظام پر تحقیق میں پیش پیش رہے؛ اور ٹوکیو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے ماساٹاکا ہاروٹا، جو سونے سے کمیائی تبدیلی پیدا کرنے میں سرخیل رہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیئریویٹ اینالٹکس نے حوالہ جات کی قابل قدر شخصیات کے طور پر ان تین – اور جاپان سے کئی دیگر – کے نام دیئے ہیں، یہ وہ محققین ہیں جن کے مقالہ جات کا اتنا زیادہ حوالہ دیا گیا کہ ہم توقع کرنے لگے کہ یہ نوبل انعام یافتگان کی فہرست میں شامل ہوں گے۔

پینڈلبری نے کہا کہ جرائد اور مقالہ جات کی معلومات کا محتاط جائزہ سائنسی پالیسی سازی اور فنڈنگ کے لیے معلومات پر مبنی نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور کمزوریوں کی نشاندہی اور قیام استحکام کے لیے حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

کلیئریویٹ اینالٹکس میں سائنسی اور تعلیمی تحقیق کی عالمی سربراہ جیسیکا ٹرنر نے کہا کہ ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ درست، غیر جانبدار معلومات اور مقالہ جات کے حوالے، جو تحقیقی کارکردگی، ایک خیال یا سائنسی کھوج کی طرف بڑھنے اور کئی سالوں کے جدید خیالات کو تحریک دینے کے معنی خیز نتائج سے پردہ اٹھاتے ہیں، استعمال کرنا کس قدر اہم ہے۔ 50 سال سے بھی زائد عرصے سے ہم سائنسی اور تعلیمی تحقیقی برادریوں کو مستند حوالہ جات کی معلومات، حوالہ جات کا وسیع تجزیے کے ساتھ ساتھ 30 سال سے بھی زائد عرصے سے ببلیو میٹرک مہارت پیش کر رہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ نیچر انڈیکس ویب آف سائنس کے حوالوں کی معلومات استعمال کر رہا ہے اور جاپان پر اپنی خصوصی رپورٹ کے لیے اہم انکشافات سے پردہ اٹھانے کے لیے مطلوبہ تجزیئے  پیش کر رہا ہے۔

ویب آف سائنس کے بارے میں مزید جانیئے۔

کلیئریویٹ اینالٹکس

کلیئریویٹ ٹ م اینالٹکس دنیا بھر میں صارفین کو بھروسہ مند بصیرت اور بیان و تشریح فراہم کرکے جدت طرازی کی رفتار کو آگے بڑھاتا ہے، انہیں زیادہ تیزی سے نئے خیالات کی دریافت، حفاظت اور اسے تجارتی بنانے کا موقع دے رہا ہے۔ تھامسن رائٹرز کے سابقہ انٹلیکچوئل پراپرٹی اینڈ سائنس کاروبار کے طور پر ہم سائنسی اور اکادمی تحقیق، پیٹنٹ تجزیات اور  قانونی معیارات، ادویات سازی اور بائیوٹیک مہارت، ٹریڈ مارک کے تحفظ، ڈومین برانڈ کے تحفظ اور دانشورانہ املاک کے انتظام پر سبسکرپشن کی بنیاد پر کاروبار کرنے والے نمایاں اداروں کے مجموعہ رکھتے  اور چلاتے ہیں۔ اب کلیئریویٹ ٹ م اینالٹکس 4,000 سے زائد ملازمین کے ساتھ، دنیا بھر میں 100 سے زیادہ ممالک میں کام کرنے والا آزاد ادارہ  اور نامور برانڈز بشمول ویب آف سائنس ٹ م ، کورٹیلس ٹ م ، تھامسن انوویشن ٹ م ، ڈیرونٹ ورلڈ پیٹنٹس انڈیکس ٹ م ، کمپیومارک ٹ م ، مارک مونیٹر ٹ م اور ٹیک اسٹریٹ ٹ م اور دیگر کو چلا رہا ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کریں clarivate.com۔

لوگو – https://mma.prnewswire.com/media/455613/clarivate_logo_for_press_release_Logo.jpg

Tags:

Category: General, Urdu