حج اور اسلام کے بارے میں بین الاقوامی شخصیات کے تاثرات

حج اور اسلام کے بارے میں بین الاقوامی شخصیات کے تاثرات

September 7, 2017 | General, Urdu | Share:

صدیوں سے، دنیا کے ہر خطے سے لاکھو مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ  کا سفر کرتے آئے ہیں جو سب سے بڑا عالمی اجتماع ہے۔

ملٹی میڈیا نیوز ریلیز دیکھنے کےلیے برائے مہربانی کلک کریں:
https://www.multivu.com/players/uk/8173054-international-icons-hajj-islam/

امریکی شہری حقوق کے کارکن مالکم ایکس نے 1964 میں حج کیا تھا۔ اس سفرسے واپسی پر انھوں نے 1965 میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت میں دوران حج اس اتحاد کا ذکر کیا جس کا وہ تصور تک نہیں کر سکتے تھے:

’’ساری دنیا کے دسیوں ہزار حجاج کرام جمع تھے۔ ان میں نیلی آنکھوں والے گورے لوگوں سے لے کر سیاہ فام افریقیوں تک ہر رنگ کے لوگ تھے۔ لیکن ہم تمام لوگ اتحاد اور بھائی چارہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی مذہبی فریضہ ادا کر رہے تھے جو امریکہ میں میری رہائش کے تجرے کے مطابق کسی کالے اور گورے کے بیچ اس قسم کا اتحاد اور بھائی چارہ ممکن ہی نہیں تھا۔۔۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسلام کو سمجھے، کیونکہ یہی وہ واحد مذہب ہے جو معاشرے کو نسلی مسائل سے پاک کر سکتا ہے۔ میری زبان سے یہ الفاظ سن کر آپ کو حیرت ہوگی۔ پر اس حج پر جو میں نے دیکھا اور میں جس تجربے سے گزرا اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے سابقہ افکار پر نظر ثانی کروں۔‘‘

2012 میں بالی ووڈ اسٹار عامر خان نے اپنی والدہ کے ساتھ فریضۂ حج ادا کیا۔ انھوں نے ایک رپورٹر کے سامنے اپنا تجربہ کچھ اس طرح بیان کیا: ’’غالباً یہ میری زندگی کے سب سے حیرت انگیز تجربات میں سے ایک تھا۔ اسے الفاظ میں بیان کرپانا بہت ہی مشکل ہے۔۔۔ کعبہ پر نظر پڑتے ہی آپ ایک بالکل نئے تجربے سے گزرتے ہیں اور آپ دنیا کے مختلف خطوں کے لوگ ایک جگہ پاتے ہیں جو مختلف زبانیں بولتے ہیں۔  مختلف رنگوں، مختلف نسلوں، مختلف پس منظر، مختلف معاشروں کے لوگ اس ایک کام کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ نہایت دلکش منظر ہے۔ اور بلاشبہ یہ زندگی کا ایک یادگار تجربہ ہے۔‘‘

یہ نقطہ ہائے نظر اتحاد کے حوالے سے کلیدی اسلامی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں، جو حج کی ادائیگی کے دوران تمام حاجیوں کو ایک کر دیتا ہے۔ یہ ان عالمگیر اقدار میں سے ایک ہے جو اسلام نے دنیا کو دیا ہے۔

انگریزی کے معروف مصنف ایچ جی ویلس نے رحم دلی اور رواداری کی قدروں پر اظہار خیال کچھ اس طرح کیا تھا جو اسلام کی بنیاد ہیں: اسلامی تعلیمات نے ہمارے درمیان منصفانہ اور اچھے رویے کی روایات چھوڑی ہیں، اور لوگوں میں رواداری اور رحم دلی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہ وہ اعلی انسانی تعلیمات ہیں جو بیک وقت قابل عمل بھی ہیں۔۔۔ اسلام ہمدردی، سخاوت اور بھائی چارے کا مجموعہ ہے۔‘‘

7 فروری، 1980 کو اسلامی ممالک کے ساتھ امریکی رشتے پر تقریر کرتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے اسلام کے ان مشترکہ اقدار پر زور دیا:

’’میں صدر کی حیثیت سے ذاتی طور پر امریکی لوگوں اور اسلام کے ذریعہ بتائے گئے مشترکہ انسانی اور اخلاقی اقدار کے تجربے سے دم بخود رہ گیا۔ سب سے پہلے، ہمارا ایمان ایک عظیم طاقت پر ہے۔ وہی ہم سب کو ایمان، رحم دلی اور انصاف کی ہدایت دیتا ہے۔ ہم سب قانون کا احترام کرتے اور پاس رکھتے ہیں۔ دور جدید کے دباو کے باوجود، خاندان اور گھر ہمارے لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ اور ہم سب ایک ایسا مشترکہ عقیدہ رکھتے ہیں جس میں مہمان نوازی کے عمل میں میزبان خواہ وہ کوئی ملک ہو یا کوئی فرد مہمان کے تئیں فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ‘‘

http://mma.prnewswire.com/media/551740/MOCI_Hajj_Pilgrimage.jpg

Tags:

Category: General, Urdu