چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کا گلوبل ٹرسٹ فنڈ سے اتحاد : AsiaNet-Pakistan

چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کا گلوبل ٹرسٹ فنڈ سے اتحاد

[ 0 ] April 23, 2010 | | Share:

واشنگٹن، 23 اپریل/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ زراعت میں سرمایہ کاری بھوک اور غربت میں کمی کا “انتہائی موثر” طریقہ ہے

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئر بل گیٹس نے آج دنیا کے غریب ترین کسانوں کو زیادہ سے زیادہ کاشت کرنے میں مدد دینے اور اپنی زندگی– اور اپنے ممالک– کو بہتر بنانے اور بھوک و غربت سے باہر نکالنے میں مدد دینے کے لیے ایک عالمی ٹرسٹ فنڈ کے اجراء کے لیے امریکی محکمہ خزانہ میں امریکہ، کینیڈا، ہسپانیہ اور جنوبی کوریا کی حکومتوں کے نمائندگان کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔

فنڈ میں ابتدائی طور پر تقریبا 900 ملین ڈالرز کا کل حصہ ڈالا گیا ہے، جس میں 30 ملین ڈالرز دینے کا وعدہ فاؤنڈیشن نے کیا ہے۔ اقتصادی بحران اور غذا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بھوک کا شکار افراد کی تعداد ایک ارب ہو جانے پر گزشتہ سال جی 20 کا تجویز کردہ گلوبل ایگری کلچر اینڈ فوڈ سیکورٹی پروگرام 22 ارب ڈالرز سے عملی طور پر غذائی تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

گیٹس، جن کی فاؤنڈیشن زرعی ترقیات کے لیے اب تک 1.5 ارب ڈالرز کا عہد کر چکی ہے، نے کہا کہ “چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سرمایہ کاری کرنا بھوک اور انتہائی غربت سے نمٹنے کا ایک انتہائی موثر طریقہ ہے – تاریخ اس کو کئی مرتبہ ثابت کر چکی ہے۔ اس فنڈ کا اجراء ایک اہم قدم ہے، لیکن ابھی یہ صرف پہلا قدم ہے۔ جون میں یورپین، جی 8 اور 20 کے اجلاسوں اور ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے مواقع پر دیگر ممالک کو بھی ان چار بنیادی اراکین کے ساتھ شرکت کرنی چاہیے اور اپنے وعدوں کو اچھے انداز میں پورا کرنا چاہیے۔ اگر ہم اس کام کی تکمیل تک اپنی توجہ مرکوز رکھنے میں کامیاب رہے تو لاکھوں افراد بہتر زندگیوں کی جانب گامزن ہوں گے۔”

عالمی بینک کے مطابق انتہائی غربت کے شکار ایک ارب افراد میں سے تین چوتھائی اپنی زندگی کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر وہ اضافی کاشت کرنے میں کامیاب ہو جائیں، تب بھی اکثر و بیشتر وہ فروخت کے لیے قابل بھروسہ مارکیٹ کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود، بھوک کے خلاف جنگ میں کئی امیدوں کی کرنیں موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل اور الائنس فار اے گرین ریوولیوشن ان افریقہ (AGRA) کے بورڈ کے موجودہ چیئر کوفی عنان کا کہنا ہے کہ “زرعی ترقی میں یہ تازہ ترین سرمایہ کاری ہمارے چھوٹے کسانوں کے لیے ایک زبردست خبر ہے، جو مٹی کی زرخیزی میں کمی، ضرر رساں کیڑوں، بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے اہل خانہ کی پرورش اور غربت کے چنگل سے نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کثیر عطیات دہندگان کا یہ ٹرسٹ فنڈ متاثر کن نتائج ظاہر کرنے والی مختلف ممالک کی مدد کے ساتھ ساتھ عطیات دہندگان کو متفق کرنے کا ایک بہتر و موثر طریقہ ہے۔ زراعت کے شعبے میں مستحکم و ماحول دوست سرمایہ کاری اور مختلف شعبہ جات کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ذریعے، ہم اس پیشرفت کو جاری رکھ سکتے ہیں اور زیادہ ٹھیک اور محفوظ غذا کی حامل دنیا تخلیق کر سکتے ہیں۔”

نیم صحراوی افریقہ کے 18 ممالک میں کیے گئے حالیہ گیلپ سروے میں باشندوں نے زراعت اور روزگار کو وہ اہم ترین مسئلے قرار دیا ہے جن سے حکومتوں کو اگلے سال میں نمٹنا چاہیے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو ایک جامع طویل المیعاد طریقے کی ضرورت ہے جو معیشت کے لیے کارگر اور ماحول دوست ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ بہتر بیج، آلات اور تربیت، مارکیٹوں تک رسائی جہاں وہ اپنی اضافی کاشت فروخت کر سکیں، اور ان کی کوششوں کو بہتر پالیسیوں کے ذریعے مدد دینا۔ عالمی بینک میں قائم یہ فنڈ ٹرسٹ ان ممالک پر توجہ مرکوز رکھے گا جو مضبوط قومی منصوبوں کے حامل ہیں اور اپنے وسائل کو موثر انداز میں پہلے ہی استعمال کر چکے ہیں۔

افریقی ممالک پہلے ہی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ 2004ء میں، افریقی ریاستوں کے سربراہان نے زراعت میں 6 فیصد سالانہ نمو کو پانے کے لیے اپنے قومی بجٹ کا 10 فیصد حصہ مختص کرنے کا عہد کیا تھا۔ 2008ء میں، 20 افریقی ممالک نے 6 فیصد کا ہدف حاصل کیا۔ روانڈا میں، 2007ء سے 2009ء کے درمیان زراعت میں سرمایہ کاری میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ 2008ء میں ملک نے بتایا کہ اس کی زرعی پیداوار میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

فاؤنڈیشن کی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاریاں اور شراکت داریاں پہلے ہی سیر حاصل نتائج ظاہر کر چکی ہیں:

–      افریقہ کی زیر قیادت انجمن AGRA اور اس کے شراکت دار بہتر بیجوں کی 100 سے زائد اقسام کو بر اعظم بھر میں جاری کر چکے ہیں، ہزاروں مقامی زرعی ڈیلروں کو تعلیم اور 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد کاشتکاروں کو تربیت دے چکے ہیں۔

–      بھارت میں، کم خرچ ٹریڈل پمپوں نے ایک لاکھ کاشتکاروں کو نئی مائیکرو اریگیشن ٹیکنالوجی فراہم کی جا چکی ہے جس نے ان کی آمدنی کو دوگنا کرنے میں مدد دی ہے۔

–      سیلاب کے مقابلے میں مزاحمت کرنے والی چاول کی نئی اجناس نے بھارت کے سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں کسانوں کو اپنی پوری فصل کھو دینے سے بچنے میں مدد دی ہے۔ کاشتکاروں کی جانب سے بہت زیادہ طلب اور، خصوصا بھارت میں، حکومت کی جانب سے بھرپور مدد کے باعث اس منصوبے سے پیداواری ہدف پانچ گنا سے زیادہ ہو چکا ہے۔

–      مشرق افریقہ میں کاشتکار مکئی کی نئی اقسام استعمال کر رہے ہیں جو قحط سالی کی صورتحال میں زیادہ بہتر پیداوار دیتی ہے اور بہتر بیجوں کے بغیر ہونے والی پیداوار کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ پیداوار دیتی ہے۔

–      عالمی غذائی پروگرام بڑے تاجروں سے خریدنے یا دیگر ممالک سے شپنگ کے بجائے جن ممالک میں غذائی اجناس استعمال کی جائیں گی انہی متعدد ممالک کے چھوٹے کسانوں سے 50 ہزار میٹرک ٹن غذائی اجناس خریدنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔

گیٹس کہتے ہیں کہ “دنیا جانتی ہے کہ کیا چیز کارگر ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ زبردست شراکت داریوں اور مشترکہ ذمہ داری کے ملاپ سے، ہم دنیا بھر کے چھوٹے کسانوں کو بھوک اور انتہائی غربت سے چھٹکارہ دلانے میں مدد کر سکتے ہیں۔”

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن(http://www.gatesfoundation.org)

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و سیر حاصل زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ امریکہ میں، وہ اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو اسکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقعوں پر رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر ہدایت کام کر رہے ہیں۔ http://www.gatesfoundation.org پر مزید معلومات حاصل کیجیے یا فیس بک (http://www.facebook.com/billmelindagatesfoundation?ref=ts) اور ٹویٹر (http://gatesfoundation.pr-optout.com/Url.aspx?521304x98004x-112728) پر گفتگو میں شامل ہوئیے۔

نشریاتی معیار کی فوٹیج دیگر مواد یہاں دستیاب ہے:

http://www.gatesfoundation.org/press-room/Pages/news-market.aspx

ذریعہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

رابطہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

+1-206-709-3400

media@gatesfoundation.org

Category: General, Urdu

Leave a Reply

You must be logged in to post a comment.