شان شی کوئلے کی پیداوار کی نگرانی اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد کے لئے برقی توانائی کے بگ ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے

تائی یوان، چین، 29 جولائی 2022 /ژنہوا- ایشیانیٹ/– کوئلہ موجودہ توانائی کی فراہمی کے لئے “بیلسٹ اسٹون” ہے۔ کوئلے کی پیداوار کی تصدیق اور نگرانی کی مشکلات کے پیش نظر کوئلے کی پیداوار کا ایک بڑا صوبہ شان شی انرجی بگ ڈیٹا سینٹر پر انحصار کرتے ہوئے بجلی کی کھپت اور کوئلے کی پیداوار کے درمیان تعلق پر فعال انداز میں تحقیق کرتا ہے اور توانائی کی بگ ڈیٹا مصنوعات تیار کرتا ہے جو “کوئلے کو بجلی میں تبدیل” کرتی ہیں۔ اور اسے لولیانگ شہر میں آپریشن میں ڈال دیا گیا ہے۔

کوئلے کے 251 انٹرپرائزز کی پیداوار، توانائی کی کھپت، بجلی کی کھپت اور  کوئلے کے کاروباری اداروں کے دیگر اعداد و شمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں، کوئلے کو بجلی میں تبدیل کرنے کا کوئلے کی پیداوار کی مانیٹرنگ کا ماڈل حقیقی وقت میں کاروباری اداروں کی پیداواری صورتحال کی مانیٹرنگ کر سکتا ہے۔ ایک بار جب کوئلے کی کان میں توانائی کی غیر معمولی کھپت ہو جائے گی تو یہ نظام کم پیداوار والی قبل از وقت وارننگ معلومات بروقت بھیج دے گا۔ حکومت کے انٹرپرائزز تعاون کے ذریعے کوئلے کی پیداوار بڑھانے اور رسد کو یقینی بنانے میں مدد کے لئے مقامی طور پر آن سائٹ معائنہ، اصلاح اور رائے کے پورے عمل کے لئے ایک بند لوپ ورکنگ میکانزم قائم کیا گیا ہے۔

10 مئی کو “کوئلے کو بجلی میں تبدیل کرنے” کے آپریشن کے بعد سے اسٹیٹ گرڈ شان شی الیکٹرک پاور کمپنی نے مجموعی طور پر 247 مانیٹرنگ اور تجزیہ رپورٹیں فراہم کی ہیں اور 98 آؤٹ پٹ قبل از وقت وارننگ پیغامات جاری کیے ہیں۔ لولیانگ انرجی بیورو کی جانب سے آن سائٹ معائنہ اور اصلاح کے بعد لولیانگ سٹی میں کوئلے کی پیداوار میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اگلے مرحلے میں اسٹیٹ گرڈ شان شی الیکٹرک پاور کمپنی حکومت اور انٹرپرائز تعاون کو مزید مستحکم کرے گی، کوئلے کی پیداوار کے انٹرپرائزز کی درجہ بندی اور ہر عمل کے لنک میں بجلی کے ڈیٹا کی وصولی کو بہتر کرے گی، کوئلے کی پیداوار کی مانیٹرنگ اور تجزیہ ماڈل الگورتھم کو بہتر بنائیں گی اور ایپلی کیشن کے منظرناموں کو وسعت دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حکومت کو توانائی کی کھپت کی رِسک مانیٹرنگ اور دوہرے کنٹرول کے حوالے سے درست پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے میں مدد دے گی اور کاروباری اداروں کو لاگت کم کرنے اور توانائی کی کھپت کے انتظام اور کنٹرول اور بجلی کی غیر معمولی کھپت کے تجزیے اور پروسیسنگ کے حوالے سے کارکردگی بڑھانے میں مدد دے گی۔

ماخذ: اسٹیٹ گرڈ شانگژی الیکٹرک پاور کمپنی

‫ پانچویں سی آئی آئی ای (CIIE) نے بیلٹ اینڈ روڈ سے ملحقہ ممالک کو فائدہ پہنچایا

شنگھائی، 28 جولائی، 2022/پی آرنیوزوائر/ — بین الاقوامی خریداری، سرمایہ کاری کے فروغ، ثقافتی تبادلوں اور کھلے تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم، چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (CIIE) مسلسل چار سالوں سے کامیابی کے ساتھ منعقد کیا جارہاہے اور اس کو ایک بین الاقوامی سطح  کے عوامی بھلائی اور کثیر القومی تجارتی نظام ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کھلی عالمی معیشت اور بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کی حامل ایک کمیونٹی کی تعمیر کے لیے ایک اہم کیریئر کے طور پر سراہاجاتا ہے۔https://mma.prnewswire.com/media/1868287/China_International_Import_Expo.jpg

2018 میں اپنے آغاز کے بعد سے، CIIE اپنے معیار اور اثر و رسوخ میں بڑھ رہا ہے۔ اس کی کاروباری نمائش کا رقبہ 2018 میں 270,000 مربع میٹر سے بڑھ کر 2021 میں 366,000 مربع میٹر ہو گیا۔ گزشتہ چار CIIEs میں نمائش کنندگان نے 1,500 سے زیادہ نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور خدمات شروع کیں اور 270 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے آزمائشی سودوں کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔
اب جبکہ CIIE اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہا ہے تو بیلٹ اینڈ روڈ سے ملحقہ مزید  اور زیادہ ممالک نے چینی مارکیٹ پر اپنی نگاہیں ڈالنا اور اپنی مصنوعات چین کو برآمد کرنا شروع کر دی ہیں۔

پہلے CIIE کے موقع پر ، جنوبی امریکہ میں مقیم ایک چینی کاروباری خاتون ما  یوژیا  (Ma Yuxia) نے چینی مارکیٹ میں ‘الپاکا پلش ٹوائز ‘ متعارف کرائے تھے۔

ما اور اس کے پیرو سے تعلق رکھنے والے پارٹنرز نے پیرو میں ان کھلونوں اور ہاتھ سے بنی دیگر روایتی دستکاریوں کی نمائش اور فروغ کے لیے 9 مربع میٹر کا ایک چھوٹا بوتھ کرائے پر لیا۔ انہوں نے ‘وارمپاکا ‘کے نام سے اپنے برانڈ کا بھی آغاز کیا۔https://mma.prnewswire.com/media/1868286/CIIE_Logo.jpg

ایکسپو میں جانے کا یہ سفر حیرت انگیز طور پر بارآور ثابت ہوا۔ مسلسل چار سال تک CIIE میں حصہ لینے کے بعد،’وارمپاکا ‘ اب چین کے 20 سے زیادہ تجارتی مراکز میں پایا جا سکتا ہے۔

اب تک، پانچویں CIIE کے لیے منصوبہ بند کاروباری نمائش کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ مخصوص کر لیا گیا ہے۔ اس سال ایکسپو میں فارچیون گلوبل 500 کی 260 سے زائد کمپنیاں اور صنعتی رہنما شرکت کریں گے۔

ملکی سطح کی اس نمائش میں بہت سے ممالک نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ، ہانگ چیاؤ انٹرنیشنل اکنامک فورم جو ایکسپو کا ایک بڑا حصہ ہے، میں عالمی کھلے پن کی ایک نئی رپورٹ اور عالمی کھلے پن کا اشاریہ جاری کیا جائے گا۔

بہت سے لوگوں کے دلچسپی لینےکے باعث جگہ تیزی سے بھر جائے گی۔ وقت ختم ہونے سے پہلے پانچویں ایڈیشن کے لیے سائن اپ کرنا یقینی بنائیں! رجسٹر ہونے کے لیے یہاں کلک کریں: https://www.ciie.org/exhibition/f/book/register?locale=en۔

رابطہ کیجئے:  نی چنگ شین (Nie Qingxin)
ٹیلیفون:
0086-21-67008870/67008988

لوگو:  https://mma.prnewswire.com/media/1868286/CIIE_Logo.jpg

تصویر:  https://mma.prnewswire.com/media/1868287/China_International_Import_Expo.jpg

.

‫مسار ڈیسٹی نیشن اور الزمیل رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ نے نصف ارب ریال مالیت کے حامل ایک انضمامی معاہدے پر دستخط کردیے

مکہ، سعودی عرب، 26 جولائی 2022 /پی آر نیوز وائر/ – ام القریٰ ڈویلپمنٹ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی، مسار ڈیسٹی نیشن اور الزمیل رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کے مالک اور ڈویلپر نے آج ایک انضمامی معاہدے پر دستخط کیے؛ جس کے مطابق الزمیل رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ نصف ارب ریال کی مالیت سے مسار فرنٹ کے اس پار دکھائی دینے والے لگژری رہائشی ٹاورز میں سے ایک کا مالک بن جائے گا۔https://mma.prnewswire.com/media/1866787/Umm_Al_Qura_For_Development_and_Construction_Masar_Destination.jpg

معاہدہ پر دستخط  ام القریٰ ڈویلپمنٹ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی کے سی ای او جناب یاسر ابوعتیق اور الزمیل رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی بورڈ آف ڈائریکٹرز  کے چیئرمین جناب عبدالحامد عبداللہ الزمیل کے درمیان ہوئے۔ جناب الزمیل نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے اطمینان اور شکر گزاری کا اظہار کیا کہ یہ انضمام الزمیل رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے بلند عزائم کے مطابق ہے کیونکہ وہ رئیل اسٹیٹ خدمات کے اعلیٰ ترین درجے اور لگژری رہائشی کے حل میں پیش رفت کے  خواہاں ہیں۔ الزمیل کمپنی فروخت کے لئے ایسے سپریم رہائشی اپارٹمنٹس تیار کرے گی جو مخصوص اور اپ سکیل مسار ڈیسٹی نیشن کے لائق ہوں گے۔

اس موقع پر، ام القریٰ ڈیولپمنٹ اینڈ کنسٹرکشن کے سی ای او جناب یاسر ابوعتیق نے الزمیل رئیل اسٹیٹ کے ساتھ معاہدے کے لیے کمپنی کے اشتیاق کا اظہار کرتے ہوئے مہمان داری کے شعبے اور مسار ڈیسٹی نیشن کی جانب سے مکہ مکرمہ کے رہائشیوں اور زائرین کی ضروریات کو پورا کرنے والے ایک ممتاز رہائشی تجربے میں پیش رفت  کے لیے کوششوں میں تعاون کی خواہش پر زور دیا۔https://mma.prnewswire.com/media/1863084/Um_Al_Qura_For_Development_and_Construction_Masar_Logo.jpg

مسار ترقی اور سرمایہ کاری کے وژن کے ساتھ ایک ایسا شہری مقام ہے جس نے ماحولیاتی اور معاشرتی استحکام کے اعلیٰ ترین معیارات کو اپنا یاہے۔ مسار مکہ کے لوگوں اور اس کے زائرین کے معیار زندگی کو متنوع پیشکشوں اور صلاحیتوں کے ذریعے بلند کرنے والا ایک ممتاز تاریخی سنگ میل ہوگا۔ اس کا متعدد اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے والا مربوط اور متنوع ماحولیاتی نظام اور اس کی سہولیات و  خدمات کا معیار ،مکہ کو طویل مدتی سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے والا  ایک پرکشش مقام بنائے گا۔

تصویر:  https://mma.prnewswire.com/media/1866787/Umm_Al_Qura_For_Development_and_Construction_Masar_Destination.jpg
لوگو:   https://mma.prnewswire.com/media/1863084/Um_Al_Qura_For_Development_and_Construction_Masar_Logo.jpg

 

عزت ماٰب شہزادہ محمد بن سلمان نے  NEOM میں مستقبل کے شہر کے لیے،  THE LINE کے ڈیزائن کا اعلان کیا

جدہ، سعودی عرب

شہزادہ محمد بن سلمان، ولی عہد اور NEOM بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نے، آج THE LINE کے ڈیزائن کا اعلان کیا ہے، یہ ایک تہذیبی انقلاب ہے جو انسانوں کو کو اولیت دیتا ہے، اور قرب و جوار کی فطرت کو محفوظ رکھتے ہوئے شہری زندگی کا بے مثال تجربہ فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں، عظمت شاہی شہزادہ محمد بن سلمان نے شہر کے ابتدائی خیال اور وژن کو لانچ کیا جو شہری ترقی کے تصور اور یہ کہ مستقبل کے شہروں کو کس طرح کا ہونا چاہیے اس کی نئی تعریف پیش کرتا ہے ۔https://mma.prnewswire.com/media/1865968/NEOM_THE_LINE_1.jpg

THE LINE کے ڈیزائن سڑکوں، کاروں اور آلودگی سے پاک ماحول میں مستقبل کی شہری کمیونٹیز کی عکاسی کرتے  ہیں۔ یہ 100% قابل تجدید توانائی پر کام کرے گا اور روایتی شہروں کی طرح نقل و حمل اور انفراسٹرکچر پر لوگوں کی صحت اور بہبود کو ترجیح دے گا۔ یہ ترقی پر فطرت کو ترجیح دے گا اور NEOM کی 95% زمین کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ اعلان THE LINE کی اہم ترین خصوصیات کو نمایاں کرتا ہے، جو صرف 200 میٹر چوڑا، 170 کلومیٹر لمبا اور سطح سمندر سے 500 میٹر کی بلندی پر ہے۔THE LINE میں بالآخر 9 ملین لوگ رہائش پذیر ہوں گے اور یہ 34 مربع کلومیٹر کے نقشے پر بنایا جائے گا، جو یکساں صلاحیت والے دوسرے شہروں کے مقابلے میں بالکل نئی چیز ہوگی۔ اس کے برعکس یہ بنیادی ڈھانچے کے اثرات کو کم کرے گا اور شہر کی کارکردگی میں ان افادیتوں کا اضافہ کرے گا جو بالکل نئی ہوں گی۔ اس کی مثالی آب و ہوا پورے سال اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کے رہائشی پیدل سفر کرتے وقت آس پاس کی فطرت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ رہائشیوں کو 20 منٹ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنے جانے والی ہائی اسپیڈ ریل کے علاوہ، پانچ منٹ کی پیدل دوری پر تمام سہولتیں دستیاب ہوں گی۔

عزت ماٰب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا، “گزشتہ سال THE LINE کے لانچ کے موقع پر، ہم نے ایک تہذیبی انقلاب کا عہد کیا جو شہری منصوبہ بندی میں بنیادی تبدیلی کی بنیاد پر انسانوں کو ترجیح دیتا ہے۔ شہر کی عمودی پرتوں والی کمیونٹیز کے لیے آج منظر عام پر آنے والے ڈیزائن روایتی فلیٹ، افقی شہروں کو چیلنج کریں گے اور فطرت کے تحفظ اور انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک ماڈل تخلیق کریں گے۔ THE LINE آج شہری زندگی میں انسانیت کو درپیش مشکلات کو حل کرے گا اور زندگی گزارنے کے متبادل طریقوں پر روشنی ڈالے گا۔https://mma.prnewswire.com/media/1865969/NEOM_THE_LINE_2.jpg

عزت ماٰب شہزادہ سلمان نے مزید کہا، “ہم اپنی دنیا کے شہروں کو درپیش رہائشی اور ماحولیاتی بحرانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، اور NEOM ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے اور تصوراتی حل فراہم کرنے میں اولین حیثیت کا حامل ہے۔NEOM بلندی کی جانب تعمیر کرنے کے تصور کو حقیقت بنانے کے لیے فن تعمیر، انجینئرنگ اور تعمیرات میں روشن دماغوں کی ایک ٹیم کی قیادت کر رہا ہے۔”

عزت ماٰب شہزادہ سلمان نے کہا، “NEOM دنیا بھر کے تمام لوگوں کے لیے تخلیقی اور اختراعی طریقوں سے دنیا میں اپنی شناخت بنانے کی جگہ ہوگی۔  NEOM سعودی وژن 2030 کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے، اور قوم کی جانب سے THE LINE کا تحفہ دینے کا ہمارا عزم پختہ ہے۔

THE LINE شہری ڈیزائن کا ایک نیا نظریہ پیش کرتا ہے: لوگوں کو ان تک رسائی کے لیے تین جہتوں (اوپر، نیچے یا ایک جانب سے دوسری جانب) میں بغیر کسی رکاوٹ کے حرکت کرنے کا امکان فراہم کرتے ہوئے شہر کے امور کو عمودی طور پر ایک کے اوپر ایک بنانے کا خیال ایک ایسا تصور ہے جسے زیرو گریویٹی اربنزم کہا جاتا ہے۔ صرف اونچی عمارتوں سے مختلف، یہ تصور عوامی پارکس اور پیدل چلنے والے حصوں، اسکولوں، گھروں اور کام کے لیے جگہوں پر مشتمل ہے، تاکہ کوئی بھی پانچ منٹ کے اندر روزانہ کی تمام ضروریات کو آسانی سے پورا کر سکے۔

THE LINE میں ایک بیرونی آئینے کا سامنے کا حصہ ہوگا جو اسے اس کا منفرد کردار فراہم کرے گا اور یہاں تک کہ اس کے چھوٹے اثرات کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرے گا، جب کہ اندرونی حصے کو غیر معمولی تجربات اور طلسماتی احساس تخلیق کرنے کے لیے بنایا جائے گا۔ اس مستقبل کے شہر کے لیے اس انقلابی تصور کو تیار کرنے کے لیے NEOM کی قیادت میں عالمی شہرت یافتہ معماروں اور انجینئروں کی ایک ٹیم تیار کرے گی۔

معمول کے کاروبار سے الگ، شہر کے ڈیزائن کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا، اور تعمیراتی ٹیکنالوجیز اور مینوفیکچرنگ کے عمل میں نمایاں بہتری لاتے ہوئے  تعمیر کو کافی حد تک صنعتی شکل دی جائے گی ۔THE LINE کے ڈیزائنوں کا اعلان اس کے OXAGON جیسے فلیگ شپ پروجیکٹس، اس کے نئے تصور کردہ مینوفیکچرنگ اور جدید طرز کے شہر کی ترقی میں NEOM کی پیشرفت کا تسلسل ہے؛ اور TROJENA، جو اس کا عالمی کوہستانی سیاحتی مقام ہے وہ خلیج عرب کی پہلی آؤٹ ڈور اسکیئنگ فراہم کرے گا، ساتھ ہی ساتھ NEOM کے دو ذیلی اداروں کا آغاز کرے گا: ENOWA، اس کی توانائی، پانی اور ہائیڈروجن کمپنی؛ اور NEOM ٹیک اینڈ ڈیجیٹل کمپنی ہوگی۔

NEOM کے بارے میں

NEOM انسانی ترقی کو تیزتر کرنے والا اور اس بات کا وژن ہے کہ نیا مستقبل کیسا ہو سکتا ہے۔ یہ شمال مغربی سعودی عرب میں بحیرہ احمر پر ایک ایسا خطہ ہے جو زمین کے ایک زندہ تجربہ گاہ کے طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے – ایک ایسی جگہ جہاں کاروبار اس نئے مستقبل کے لیے راہ ہموار کرے گی۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک منزل اور ایک گھر ہو گا جو بڑے خواب دیکھتے ہیں اور غیر معمولی زندگی گزارنے کے لیے ایک نئے ماڈل کی تعمیر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، فروغ پزیر کاروبار کی تشکیل اور ماحولیاتی تحفظ کو از سر نو ایجاد کرنا چاہتے ہیں۔

NEOM میں ہائپر کنیکٹڈ، علمی ٹاؤن اور شہر، بندرگاہیں اور انٹرپرائز زون، تحقیقی مراکز، اسپورٹس اور تفریحی مقامات اور سیاحتی مقامات شامل ہوں گے۔ جدت طرازی کے مرکز کے طور پر، کاروباری افراد، کاروباری رہنما اور کمپنیاں نئی ​​ٹیکنالوجیز کو کاروباری بنانے اور کاروباری اداروں کی تحقیق، انکیوبیشن کے لیے آئیں گے۔ NEOM کے رہائشی ایک بین الاقوامی اخلاقیات کی عکاسی کریں گے اور تحقیق، خطرہ مول لینے اور تنوع کی ثقافت کو اپنائیں گے۔

مزید معلومات کے لیے media@neom.com پر ای میل کریں یاwww.neom.com  اور www.neom.com/en-us/newsroom پر جائیں۔

Link for additional photos: https://we.tl/t-n9InWCwxuw
Link for all press kits: https://we.tl/t-HrUH6GfTQB
Links for videos in the following languages: English | Arabic | French | German | Russian | Japanese | Chinese

Photo – https://mma.prnewswire.com/media/1865968/NEOM_THE_LINE_1.jpg
Photo – https://mma.prnewswire.com/media/1865969/NEOM_THE_LINE_2.jpg

‫یونائیٹڈ انٹرنیشنل بیس بال لیگ انڈیا، پاکستان اور مشرق وسطیٰ کی خدمت (سروو) کے لئے پہلی پیشہ ورانہ بیس بال لیگ تشکیل دیتی ہے

عالمی اسپورٹس ایگزیکٹوز کی ٹیم،  ہال آف فیم بیس بال آئیکونز ماریانو ریویرا اور بیری لارکن سے شراکت داری کے ساتھ  دبئی میں لیگ کا آغاز کرے گی

نیویارک اور دبئی، متحدہ عرب امارات، 25 جولائی 2022 / پی آر نیوز وائر/ — یونائیٹڈ انٹرنیشنل بیس بال لیگ (یو آئی بی ایل) نے آج بھارت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ میں پیشہ ورانہ بیس بال لانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز فروری 2023 میں دبئی میں ہونے والے افتتاحی شوکیس سے ہوگا۔ یو آئی بی ایل نے ہال آف فیم بیس بال لیجنڈز ماریانو ریویرا اور بیری لارکن کے ساتھ شراکت داری کی ہے جو کھیل کے دو مشہور اور منجھے ہوئے ستارے ہیں، جن کے ساتھ مشترکہ طور پر چھ ورلڈ سیریز چیمپئن شپ اور 25 آل اسٹار گیم کے انتخاب ہیں- تاکہ لیگ کی تعمیر اور ترقی میں مدد مل سکے۔

برصغیر پاک و ہند اور مشرق وسطیٰ کا خطہ دو ارب لوگوں کا مسکن ہے۔ ان میں سے 900 ملین سے زیادہ لوگ کرکٹ کے شوقین ہیں _ جو دنیا کا سب سے مقبول بلے اور گیند کا کھیل ہے۔ اگرچہ بیس بال جنوبی ایشیا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں چھوٹے پاکٹس میں موجود ہے لیکن پیشہ ورانہ لیگوں کی عدم موجودگی اور گہری، نچلی سطح کے کھلاڑیوں کی ترقی کی مہارت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ یو آئی بی ایل کی ٹیم اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔https://mma.prnewswire.com/media/1865352/United_International_Baseball_League_Executive_Team.jpg

بچت اور کھیلوں میں پیشہ ور بیس بال کے کیریئر لیڈر ریویرا نے کہا کہ میں یو آئی بی ایل کے دو ارب نئے شائقین کو بیس بال سے محبت کرنے کی ترغیب دینے کے دلچسپ مشن کا حصہ بننے پر بہت مشکور ہوں، وہ واحد کھلاڑی ہیں جو متفقہ طور پر ہال آف فیم کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ان کرکٹ شائقین کو تعلیم دینے، ترغیب دینے اور تفریح فراہم کرنے اور بیس بال کی ایک دلچسپ اور ثقافتی طور پر متعلقہ شکل کے لئے ان کے دلوں کو کھولنے کا ایک شاندار موقع ہے۔

امریکی بیس بال 13 بلین ڈالر کا کاروبار ہے جس کے امریکہ اور کینیڈا بھر میں تقریبا 100 ملین شائقین ہیں۔ اور پورے لاطینی امریکہ میں اسکی پیروی کی جاتی ہے۔ تاہم اس کھیل جو ابھی تک جنوبی ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے کھیلوں کے شائقین سے کنیکٹ کرنا باقی ہے جو مجموعی طور پر دنیا میں کرکٹ کے سب سے بڑے مداحوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صرف جنوبی ایشیا میں گزشتہ سال 167 ملین سے زائد افراد نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دیکھا جو سپر باؤل سے 70 ملین زیادہ اور ورلڈ سیریز سے 150 ملین سے زیادہ ہے۔

بیس بال کے عمر رسیدہ مداحوں کی تعداد کے برعکس، جس کی اوسط عمر 57 سال ہے- کرکٹ شائقین دنیا کے سب سے کم عمر کھیلوں کے شائقین میں شامل ہیں، جن کی اوسط عمر 34 سال ہے۔ یو آئی بی ایل کے پاس اس نوجوان، زیادہ متنوع آبادیاتی کو قید اور  مشغول کرنے م کے لئے کھیل میں جدت لانے اور ارتقاء کرنے کا ارادہ ہے۔

یو آئی بی ایل کی بانی، چیئرمین اور سی ای او کنول ایس سرا نے کہا کہ ہم کھیل کا احترام کرنا چاہتے ہیں اور ہم اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس کھیل کی خوبصورتی اور ورثے کو دنیا کے ایک ایسے حصے کے ساتھ بانٹنے میں مدد کرنے کے لئے پرجوش ہیں جس نے ابھی تک اسے مکمل طور پر قبول نہیں کیا ہے۔ اور ہم کچھ چیزوں کو مختلف انداز میں کرنے کے لئے بھی پرجوش ہیں، برسوں کے اعداد و شمار، دہائیوں کی تحقیق اور صدیوں کی ثقافتی تفہیم پر عمل کرتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ہندوستانی، پاکستانی اور اماراتی کھیلوں کے ہیروز کی اگلی نسل کو اجاگر کرنے میں مدد کرنے کے شوقین ہیں جن سے لاکھوں شائقین آنے والے برسوں تک جڑ سکیں گے اور ان سے متعلق ہو سکیں گے۔اس سفر کا آغاز کرنے کے لئے دنیا میں دنیا کے سب سے مشہور شہروں میں سے ایک دبئی سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے۔ دبئی غیر معمولی رہنماؤں کی طرف سے چلایا جاتا ہے جس میں کھیلوں اور تفریح کے ذریعے ترقی کا مشترکہ وژن ہوتا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ شراکت داری کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔https://mma.prnewswire.com/media/1865350/United_International_Baseball_League_Logo.jpg

یو آئی بی ایل نئے اصولوں میں تبدیلیاں متعارف کرائے گا، اصل گیم پلے تصورات تخلیق کرے گا اور اسٹیڈیم اور گھر میں شائقین کے لئے دیکھنے کا ایک زیادہ مربوط تجربہ زندہ کرے گا۔ گیم پلے اور تفریح میں اختراعات کے علاوہ یو آئی بی ایل ملٹی کنٹری لیگ فارمیٹ کا آغاز کرے گا جس میں دنیا بھر کے کھلاڑی شامل ہوں گے اور بین الاقوامی مقابلے کو ممکن بنائیں گے۔ لیگ نے پہلے ہی اپنے بین الاقوامی اسکاؤٹنگ اور جنوبی ایشیا پر مرکوز ترقیاتی پروگرام کو فعال کرنا شروع کر دیا ہے جس کا مقصد خطے بھر میں یو آئی بی ایل بیس بال اکیڈمیوں کی تعمیر کے لئے غیر معمولی مقامی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کرنا ہے۔

نو سلور سلگر ایوارڈز، تین گولڈ گلوز کے فاتح اور ورلڈ سیریز ، ایک ایم وی ہی ایوارڈ جیتنے والے تاریخ کے صرف 42 کھلاڑیوں میں سے ایک، لارکن نے کہا کہ ہمیں واقعی یقین ہے کہ کھلاڑیوں کی ترقی نچلی سطح پر شروع ہونی چاہیے اور انہیں ہال آف فیم میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی کے آخری بیس سال نوجوانوں کو ہمارے عظیم کھیل کی بنیادی باتوں کے ساتھ ساتھ عظیم قیادت کی بنیادی باتوں کو سیکھنے میں مدد دینے پر مرکوز گزارے ہیں۔ یہ بیس بال کی خوبصورتی ہے – جب آپ اسے صحیح یقین کے ساتھ، صحیح طریقہ سے سکھاتے ہیں، تو آپ نوجوانوں کو میدان میں اور باہر کامیاب ہونے میں مدد کرسکتے ہیں۔ میں نے اسے یہاں امریکہ میں دیکھا ہے، میں نے اسے برازیل میں اپنے دور میں دیکھا ہے اور میں نے مشرقی ایشیا کے اپنے دوروں کے دوران اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ اب میں بھارت، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کو اس لیول کی ہدایت و رہنمائی فراہم کرنے کے لیے بہت پرجوش ہوں۔

لانچ کے ایک حصے کے طور پر یو آئی بی ایل نے اپنا برانڈ لوگو اور ڈیزائن بھی متعارف کرایا جو فنکارانہ طور پر بیس بال کے سب سے دلچسپ لمحے یعنی ہوم رن کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ برانڈ کا ہر عنصر خطے کو کھیل سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان مداحوں کے تخیل کو متاثر کرنے میں مدد کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یو آئی بی ایل کے صدر اور چیف مارکیٹنگ آفیسر کاش شیخ نے کہا کہ کھیلوں میں زیادہ لمحات ہوم رن کی توانائی اور جوش و خروش تک نہیں آتے۔”بلے کی دراڑ_ ہجوم کی گھن گرج_ گیند کی بلندی اسٹینڈز میں اضافے سے پوری ہوئی۔ ہوم رن ایک ہی سوئنگ کے ساتھ اسٹیڈیم کو متحد کر سکتا ہے۔ اور یہ صرف ایک صدی سے زیادہ کے لئے کیا گیا ہے- ہم اس لمحے کو قید کرنا چاہتے تھے اور اس جادو میں سے کچھ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں شائقین کی نئی نسل کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے تھے۔ میں اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتا جب تک دبئی میں ہمارے مداح خود اس کا تجربہ نہ کر لیں۔ ”

 

یو آئی بی ایل کے افتتاحی شوکیس میں دنیا کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرنے والی چار فرنچائزز پیش کی جائیں گی۔ فرنچائزز، منیجرز، کوچز اور روسٹرز کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ تمام شوکیس گیمز دبئی میں کھیلے جائیں گے۔

مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں:uibl.pro

یو آئی بی ایل کے بارے میں

یونائیٹڈ انٹرنیشنل بیس بال لیگ (یو آئی بی ایل) پہلی پیشہ ورانہ بیس بال لیگ ہے جو بھارت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے لیے بنائی گئی ہے۔ ہمارا وژن کھیلوں، تفریح اور ثقافت کے لئے اپنے مشترکہ جذبوں کے ذریعے دنیا کو متحد کرنے میں مدد کرنا ہے۔ خطے کے اندر دو ارب سے زائد افراد اور تقریبا ایک ارب کرکٹ شائقین کے ساتھ ہم بیس بال میں جدت، تفریح اور بین الاقوامی سطح پر قدم رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ مزید شائقین کو کھیل سے محبت کرنے کی ترغیب دینے میں مدد مل سکے۔ مزید معلومات کے لیے وزٹکریں:www.UIBL.pro

فوٹو: https://mma.prnewswire.com/media/1865352/United_International_Baseball_League_Executive_Team.jpg

لوگو: https://mma.prnewswire.com/media/1865350/United_International_Baseball_League_Logo.jpg

 

 

‫فوجیان صوبے کے شہر فوژو میں 5ویں ڈیجیٹل چائنا سمٹ کا آغاز

فوژو، چین، 23 جولائی 2022 /ژنہوا-ایشیانیٹ/– پانچویں ڈیجیٹل چائنا سمٹ کا آغاز 23جولائی کو فوجیان صوبے کے شہر فوژو میں ہوا۔ اس کی میزبانی سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا، نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریاستی کونسل کے سرکاری اثاثوں کی نگرانی اور ایڈمنسٹریشن کمیشن اور فوجیان صوبائی پیپلز گورنمنٹ نے مشترکہ طور پر کی۔

فوجیان صوبے کے شہر فوژو میں پانچویں ڈیجیٹل چائنا سمٹ کا آغاز

“جدت سے چلنے والی نئی تبدیلی، ڈیجیٹائزیشن کی قیادت میں نیا پیراڈائم”تھیم پر مبنی، یہ سمٹ آئی ٹی ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ پر چین کی پالیسیوں کو شائع کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم، ڈیجیٹل چین کی ترقی میں تازہ ترین کامیابیوں کو ظاہر کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم، ای حکومت اور ڈیجیٹل معیشت کے نظریات، طریقوں اور تجربات پر تبادلے کا پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل چین کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے عالمی وسائل کو جمع کرنے کے لئے تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔ سی پی سی فوژو میونسپل کمیٹی کے تشہری شعبہ کے مطابق یہ سمٹ 8 حصوں پر مشتمل ہے: افتتاحی تقریب، مرکزی فورم، پالیسی ریلیز، ذیلی فورمز، کامیابی کی نمائش، ڈیجیٹل پروڈکٹ ایکسپو، ڈیجیٹل چائنا انوویشن کانٹیسٹ، ڈی سی آئی سی 2022، اور سائیڈ ایونٹ جیسے مِن دریا پر مکالمہ: اور “مکالمہ: فوژو کے لئے آؤٹ لُک”۔

مسلسل پانچ بار ڈی سی ایس کے میزبان کی حیثیت سے فوژو ڈیجیٹل چین کی نئی ترقی، نئی پیش رفت اور نئی خوشحالی کا مشاہدہ کرنے کے لئے تمام ایگزیبیٹرز کے ساتھ اس ڈیجیٹل تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔

ماخذ: سی پی سی فوژو میونسپل کمیٹی کا تشہیری شعبہ

تصویر منسلک کرنے کے لنکس:
لنک: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=425995

 

‫ګلوبل ټائمز: سنکیانګ وس څه ډیر لرې ځائی نه دے بلکہ په بی آر آئی:Xi کښې یوه بنیادی علاقہ ده۔

بیجنګ، 20 جولائی، 2022/پی آرنیوزوائر/ — 2014 ښې د چین سنکیانګ علاقے د دورے 8 کال پس چینی صدر شی جن پنګ د شمال مغربی علاقے دویمه دورہ وکړه او د کمیونسټ پارٹی پالیسیانی مکمل او دیانتداری سره نافذ کولو کوشیشوونو باندی زور ورکړو۔ نوی دور سنکیانګ د حکمرانی د پاره چین سماجی استحکام او دوام داره سلامتی له اہم ہدف په طور باندی اجاګر کوی او بیلټ اینډ روډ انیشیټو په تعمیر کښې د خطے اہم کردار دے۔

تجزیہ کارانو وینا ده چی شی جن پنګ د سنکیانګ دورہ ده د خبری اشارہ ده چی تر بدامنی نه استحکام پوری بنیادی تبدیلیانی حاصلولو نه پس د سنکیاګ خطہ د چین په مغرب اړخ ته د کهلاویدو د پل ہیډ کښې د تعمیر کیدو یو نوی مرحلے کښې داخلیږی۔

منګل نه تر جمعہ پوری سنکیانګ په علاقے کښې قیام په دوران صدر شی د ارومچی څه مقاماتو دورہ وکړه۔ هغه شیزی او ترپن ته هم لاړو او په کلو او د سنکیانګ پروډکشن اینډ کنسټرکشن کور معائنہ وکړه او مقامی اولس سره خبری اتری هم وکړی۔

دورے په دوران صدر شی سنکیانګ له یوی داسی خطے کښې ترقی ورکولو باندی هم  زور ورکړو کوم متحد، ہم آہنګ، خوشحال او ثقافتی طور باندی ترقی یافتہ وی، صحت مند ماحولیاتی نظام وی او خلق د اطمینان ژوند تیروی او کار کوی۔

د صدر شی د سنکیانګ علاقے دورہ د ده خبری مضبوط او اہم اشارہ ده چی طویل استحکام له برقرار ساتلو او اقتصادی ترقی حاصل کولو سره، سنکیانګ خطہ د اقتصادی ترقی په یو نوی دور کښې قدم ږدی او دا د چین بیلټ اینډ روډ انیشیټو د تعمیر د پاره یو بنیادی مرکز په طور باندی جوړ شوی دے۔ او چائنیز اکادمی آف سوشل سائنسز کښې د انسټی ټیوټ آف چائنیز بارډر لینډ اسټډیز ایسوسی ایټ پروفیسر وانګ یوټنګ د مغرب اړخ ته کهلاویدو والا برج ہیډ، ګلوبل ټائمز ته وینا وکړو۔

وانګ وینا وکړه چی سنکیانګ او چین د غونډی مغربی خطے استحکام محسوس کړے دے، چی کوم د چین مغربی خطے له مزید فروغ ورکولو او وسطی او د مغربی ایشیائی ممالک  سره تعاون له مضبوطولو بنیاد کیښود، وانګ وینا وکړو شاہراہ ریشم د اقتصادی پٹائی بنیادی مرکز په طور باندی د سنکیانګ کردار اہم دے۔ کوم  اہم اسټریټجک قدر او معنی لری۔

منګل له شی ارومچی انټرنیشنل لینډ پورټ  دورہ وکړه۔  “بیلټ اینډ روډ انیشیټو د شروع کیدو له پس د ده نتیجہ خیز نتائج برآمد شوی دی۔ څنګه چی د BRI مشترکہ عمارت مخکښې روان دے، سنکیانګ وس یو لری ګوشہ نه ده بلکہ یو بنیادی علاقہ او یو مرکز دے۔ شی وینا وکړه چی تاسو چی څه وکړل هغه تاریخی اہمیت حامل دے”۔

وانګ د ده خبری نشاندہی هم وکړه چی شی سنکیانګ دورے په نوی دور کښې د سنکیانګ حکمرانی د پاره د چین افزودہ پالیسی هم ظاهره کړه، کوم کښې یو طویل مدتی نقطه نظر سره نسلی اتحاد په ذریعه خطے کښې استحکام برقرار ساتل، د سنکیانګ ثقافتونو پرورش، مقامی خلقو د خوشحالی او د سنکیانګ ترقی شامل ده۔

وانګ وینا وکړه چی بیرونی نوی طریقو سره چین مصنوعاتو له ساحلی علاقوں سره امریکہ او مغربی ملکونو او د سنکیانګ د مځکی مرکز په ذریعے نورو خطوں ته هم  برآمد کولی شی، کوم نہ یواځی ګاونډی ملکونو اړخ نه زیاتیدونکی طلب پورا کولی شی بلکہ ده د خطے لوړتیا  تیزولو کښې هم مدد ګار ثابت کیدے شی۔