یوٹل نے آسٹریلیا اور میلبورن میں اولین فلیگشپ ہوٹل کے لئے پرعزم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کردیا : AsiaNet-Pakistan

یوٹل نے آسٹریلیا اور میلبورن میں اولین فلیگشپ ہوٹل کے لئے پرعزم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کردیا

July 19, 2019 | Press Release, Urdu | Share:

جدید ہوٹل کا گروپ کلیدی داخلی شہروں اور ہوائی اڈوں پر ارتکاز کے ساتھ آسٹریلیا میں ہوٹل کی روایتی خدمات میں ہلچل کا ارادہ رکھتا ہے

میلبورن، آسٹریلیا، 18 جولائی، 2019 / پی آر نیوزوائر —  یوٹل نے آج آسٹریلیا میں اپنےاولین ہوٹل کا اعلان کیا: یوٹل میلبورن  2022 میں کُھلنے کے لئے تیارہے۔ ہوٹل کارنرسٹون پارٹنرز گروپ، جو ملائیشیا، تائیوان اور آسٹریلیا میں دفاتر کے اثاثہ جات کے مالک اور ڈویلپر ہیں، کے ساتھ مینجمنٹ معاہدے کے تحت دستخط کیا گیا ہے۔

244 کمروں پرمشتمل عمارت 63-69 سٹی روڈ پر ساؤتھ بینک میں —  میلبورن کے سی بی ڈی، آرٹس پریسنکٹ، فیڈریشن اسکوائر اور میلبورن کرکٹ گراؤنڈ سے پیدل کے فاصلے – بظاہرکچھ بھی نہیں، کے اندرواقع ہو گا۔

یوٹل میلبورن آسٹریلیا میں یوٹل کے لئے ایک پرچم بردار جائیداد ہو گا، اسمارٹ بیڈ (ٹریڈ مارک) سے مزین تمام کیبن برانڈز کی جدید ترین تخلیق ہیں (یوٹل کمرے بولتے ہیں) اور ساتھ ساتھ مہمانوں کو کام اور کھیل کے درمیان آسانی سے سوئچ  کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے ڈیزائن کی گئی یوٹل کی پہچان کومیونیٹی  کی جگہیں جن کے ساتھ شریکِ کام، غیر رسمی اجلاسوں، آرام کرنے اور سماجی میل ملاپ  کے لئے، بیرونی چھت سے برطانیہ کے خاص روسٹر ورکشاپ کافی فلیٹ وہائٹس سے سگنیچر کاک ٹیل تک ہر خدمت کی فراہمی کرتےہیں۔ اس جگہ 24/7 جم اور ریستوراں و بار کے ساتھ ویؤنگ ڈیک کی سہولت بھی موجود ہے۔

یوٹل کے سی ای او ہوبرٹ ویریاٹ نے کہا: “گزشتہ دو سالوں سے، ہم آسٹریلیا میں اپنے  برانڈز کو پھیلانے کے لئے درست جگہوں اور شراکت داروں کو فعال طور پر تلاش کررہے ہیں جو امریکہ، سنگاپور اور برطانیہ میں ہماری عالمی توسیع کے لئے ایک اہم مارکیٹ اور ہمارے ہوٹلوں کے لئے ایک بنیادی غزائی مارکیٹ ہے۔ مارکیٹ کی ٹھوس بنیادوں اور عالمی کشش کے ساتھ، میلبورن ملک میں اپنی پہلی جائیداد کا آغاز کرنے کے لئے بہترین گیٹ وے ہے۔ اس کے علاوہ، ہم کارنراسٹون پارٹنرز گروپ، مہمانداری اور ریل اسٹیٹ سرمایہ کاری میں ایک بین الاقوامی رہنما، کے ساتھ مارکیٹ میں داخلے پر بہت خوش ہیں”۔

یوٹل نے یورپ، امریکہ اور سنگاپور میں طوفانی انداز سے ہوٹل کی صنعت کو مغلوب کیا، اس کے مہارت سے تیار کردہ کیبنز کا شکریہ جو کارپوریٹ اور تفریح کے لئے سفر کرنے والوں میں بہت مقبول ہے جو معیار، ٹیکنالوجی، سکون اور کمیونٹی کے احساس کو سراہتے ہیں، لیکن ایک روایتی عیش و آرام والے  ہوٹل کی قیمت پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب کمپنی اپنی اس کامیابی کو ایک نئے انداز کے ساتھ آسٹریلیا کے قومی ہوٹل سیکٹر میں دوہرانا چاہتی ہے۔

ویریاٹ نے مزید کہا: “آسٹریلیا ایک بہت جدید ترین ہوٹل مارکیٹ ہے جس میں طاقتور اسٹیک ہولڈرز ہیں؛ تاہم، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ارزاں آسائیشی سیکشن کو مستفید نہیں کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یوٹل اس کو حل کرنا چاہتا ہے۔ یوٹل میلبورن ایک حکمت عملی کے تحت ملک میں اپنے برانڈ کے لئے لانچنگ پیڈ کے طور پر پیش کیا جائے گا، جیسا کہ ہم نے امریکہ میں کیا تھا، جہاں ہم نے 2011 میں نیویارک میں پہلے ایک جائیداد کھولی اور اب وہاں ہمارے 10 ہوٹل وسیع آپریشنل ہم آہنگی اور مضبوط  تقسیمی چینلز کے زیر انتظام  ہیں۔ ہم پہلے سے ہی سڈنی، بریسبین اور پرتھ  میں ترقیاتی مواقع تلاش کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد ہی اپنے بین الاقوامی کسٹمر بیس اور گھریلو مارکیٹ دونوں کوہدف بناتے ہوئے اس جگہ ایک زبردست ہوٹل بنانے کے سلسلے میں داخل ہوجائیںگے۔”

گروپ اپنے ان تینوں برانڈز کو خطے میں لے جانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے –   یوٹل (مرکزِ شہر کا تصور)، یوٹل ایئر (ہوائی اڈے اور مصروف ٹرانسپورٹ مرکزوں میں واقع)  اور یوٹل پیڈ (طویل قیام کے مہمانوں کو مد نظر رکھ کر تیار کیا گیا)۔

یوٹل میلبورن کی ملکیت اور تکمیل کارنراسٹون پارٹنرز گروپ کرے گا اور اس  کی تعمیرات کو سی ایچ ٹی آرکیٹیکٹس ڈیزائن کریں گے۔

کارنراسٹون پارٹنرز گروپ  کے سی ای او جیسن چونگ نے کہا: ” ہمارے گروپ کی توجہ پورے ایشیا پیسفک کی  مہمانداری کی مارکیٹ میں گنجائش تلاش کرنے پرمرکوز ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ یوٹل جیسے ہلچل مچادینے والے برانڈز کے لئے جو مارکیٹ میں مکمل طور پر کچھ نئی چیز پیش کرتا ہے آسٹریلیا میں ایک راستہ موجود ہے۔ ہم یوٹل کی عالمی ترقی کے سلسلے سے بھی متاثر ہوئے تھے، جس کی توجہ کا مرکز مارکیٹوں کا بنیادی داخلی راستہ ہے، جو ہماری حکمت عملی کے ساتھ مکمل طور پر فٹ بیٹھتا ہے، لہذا آسٹریلیا میں میلبورن (ملک کے سب سے زیادہ عالمگیر اور متمدن شہروں میں سے ایک) میں اپنے پہلے پراجیکٹ  کو کامیاب کرنے کے لئے ہمارے پاس صرف یہ ہی ایک قدرتی ذریعہ تھا۔”

Tags:

Category: Press Release, Urdu