شعبۂ تشہیر، دیہوا کاؤنٹی کمیٹی اور شعبۂ تشہیر، سونگشی کاؤنٹی کمیٹی
فوژو، چین، 02 اکتوبر 2026 /ژنہوا-ایشیا نیٹ/–ستمبر میں زرعی ٹیکنالوجی میں جدت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے IFAD-SSTC مارکیٹ پلیس بیجنگ میں اقوام متحدہ بلڈنگ میں منعقد ہوئی۔ بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب کا مقصد جنوب-جنوب تعاون کے لیے ایک مؤثر اور ہدف پر مبنی پلیٹ فارم قائم کرنا تھا، جہاں چین کی زرعی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ایسے قابلِ عمل اور قابلِ تقلید حل پیش کیے جا سکیں جن سے دیگر ممالک بھی استفادہ کر سکیں۔ تقریب میں 120 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں 17 سفارت خانوں کے سفارت کار اور چین میں اقوام متحدہ کے سات اداروں کے نمائندے شامل تھے۔
جنوب مشرقی چین کے صوبہ فوجیان کے پہاڑی علاقے میں واقع دیہوا کاؤنٹی نے سفید چینی مٹی کے متعدد فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے، جن میں “فلورشنگ فلاور باسکٹ” اور “چوان ژو نان یِن” شامل تھے۔ (ایک مجسمہ جو فوجیان کے تاریخی بندرگاہی شہر چوان ژو کی یونیسکو کی فہرست میں شامل روایتی نان یِن موسیقی سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ۔ )اس کے علاوہ جنگلی سرخ مشروم ، پہاڑی علاقوں کا چائے کا تیل اور چینی یَم بھی پیش کی گئی۔ چین میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کے نمائندے نی کوائے کوما نے کہا کہ وہ چینی مٹی کے فن پاروں کی کاریگری سے “انتہائی متاثر” ہوئے۔ لاطینی امریکا اور کیریبین کے لیے بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کے تجزیہ کار خولیو ورمن نے چینی مٹی کے برتن بنانے کی تکنیک کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور چائے پیش کرنے کی روایتی تقریب بھی دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان وسیع ثقافتی اختلافات کے باوجود کئی حیرت انگیز مماثلتیں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسکو چکھنا ایک شاندار تجربہ تھا۔
دیہوا چینی سرامک ثقافت کے اہم مراکز میں سے ایک ہے اور ملک میں سفید چینی مٹی کی مصنوعات کا نمایاں مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں 4,000 سے زائد کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں، جو سالانہ 76 ارب یوآن (تقریباً 7.9 ارب برطانوی پاؤنڈ / 10.7 ارب امریکی ڈالر) کی آمدن پیدا کرتے ہیں۔ دیہوا چین میں سرامک دستکاری، چائے کے سیٹ اور پودوں کے گملوں کا سب سے بڑا پیداواری اور برآمدی مرکز ہے۔ دیہوا کا مقصد اپنے سفید چینی مٹی کے فن اور خوبصورتی کو مزید وسیع بین الاقوامی سطح پر موثر تشہیر ہے۔
نان پنگ شہر کی دیہی سونگ شی کاؤنٹی، جو کاؤنٹی سطح پر نمائش میں شرکت کرنے والا شہر کا واحد علاقہ تھا، نے سو سالہ روایت کے حامل گنے سے تیار کردہ پیسٹری، ہواچیاؤ کے کڑوے بانس کی کونپلیں، جو ہواچیاؤ ٹاؤن شپ سے منسوب ایک مقامی قسم ہے جیولونگ وائٹ ٹی (جس کے لفظی معنی “نو اژدہوں کی سفید چائے” ہیں)، سبز چائے، سیاہ چائے اور ماچا پیش کیے۔ جنوب-جنوب اور سہ فریقی تعاون کے لیے IFAD کی عالمی رابطہ کار اما برینڈفورڈ-آرتھر نے کہا کہ سونگشی نے نایاب جینیاتی زرعی وسائل، روایتی کاشت کاری اور جدید برانڈنگ کو کامیابی سے یکجا کرتے ہوئے پہاڑی علاقوں کی زرعی پیداوار کو منڈی تک پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا ماڈل ہے جس سے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے اہم اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
سونگشی کاؤنٹی کے سیکریٹری وو وےنے کہا کہ یہ نمائش بیرونی دنیا کو اس فن سے آگاہ اور فروغ دینے اور بین الاقوامی زرعی تعاون کو مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونگشی اس پلیٹ فارم کو جدید تصورات سے استفادہ کرنے، معیاری وسائل کو یکجا کرنے اور صنعتی ترقی و اپ گریڈیشن کو تیز کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
وُوئی ماؤنٹین ، جو یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے اور بائی شان زو نیشنل پارک کے درمیان واقع سونگ شی میں گنے کی کاشت کا ایک تاریخی نظام موجود ہے، جس کی بنیاد چنگ خاندان کے دور میں 1727 میں رکھی گئی تھی۔ تقریباً 300 سال گزرنے کے باوجود اس کی اہم اور قدیمی گنے کی فصل آج بھی نئی کونپلیں نکال رہی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی مقامی چائے کو قومی سطح پر جغرافیائی شناخت کی اسناد حاصل ہیں، جبکہ سونگشی گنے کی کاشت کے نظام کو چین کے اہم زرعی ورثے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
تقریب کے دوران مہمانوں نے سرحد پار زرعی تجارت، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ویلیو چین کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ دیہوا اور سونگ شی، دونوں کے نمائشی اسٹالز تقریب کے سب سے زیادہ وزٹ کئے گئے اسٹالز میں رہا۔ اس بھرپور توجہ نے دونوں علاقوں کی بین الاقوامی شناخت کو مزید وسعت دی اور چین کی کاؤنٹی سطح کی مخصوص صنعتوں کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوششوں کو نئی تحریک فراہم کی۔
AsiaNet-Pakistan Premier Editorial Content and Press Release Distribution Service